خالد سیف اللہ موتیہاری
اردو ادب میں نعت گوئی ایک انتہائی نازک، حساس اور پل صراط پر چلنے کے مترادف فن ہے۔ ایک طرف عشقِ رسول ﷺ کی بے کراں وسعتیں ہوتی ہیں اور دوسری طرف شریعتِ مطہرہ کی مقرر کردہ حدود، جن سے بال برابر انحراف بھی فنکار کو عقیدے کی لغزش کا شکار کر سکتا ہے۔ اسی کٹھن ادبی و روحانی سفر کا ایک خوبصورت اور محتاط مظہر جناب احسن چمپارنی کا نعتیہ دیوان ''کشتِ اخلاص'' ہے، جس کا مطالعہ قاری کو بیک وقت فنی طمانیت اور روحانی سرور فراہم کرتا ہے۔
کتاب ''کشتِ اخلاص'' 1442ھ بمطابق 2021ء میں کرئیٹیو اسٹار پبلیکیشنز، نئی دہلی سے اشاعت پذیر ہوئی۔ یہ صرف ایک شعری مجموعہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ 'نعتیہ دیوان' ہے جس میں حروفِ تہجی کے اعتبار سے الف سے لے کر یے تک تمام ردیفوں میں نعتیہ کلام موجود ہے۔ 452 صفحات پر مشتمل یہ دیوان مصنف کی طویل ریاضت، نعت سے گہری وابستگی اور مسلسل شعری مشق کا آئینہ دار ہے۔
کتاب کا انتساب ان سفیرانِ نعت اور مصنف کے والدین (جناب عبدالغفور اور خیر النساء) کے نام کیا گیا ہے جن کی تربیت کے نتیجے میں انہیں علم و ادب اور شعورِ سخن خصوصاً نعتِ رسولِ اکرم ﷺ کا ادراک ملا۔ یہ انتساب ہی اس بات کا غماز ہے کہ مصنف کے ہاں نعت گوئی کوئی ادبی مشغلہ نہیں بلکہ ایک خاندانی، روحانی اور فکری ورثہ ہے۔
مصنف کا اصل نام محمد ہدایت اللہ اور تخلص احسن ہے، جبکہ وہ احسن چمپارنی کے قلمی نام سے معروف ہیں۔ ان کا تعلق بہار کے ضلع مشرقی چمپارن سے ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ ان کا علمی پس منظر انتہائی مستحکم ہے؛ انہوں نے مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ، پٹنہ سے فاضلِ شمسی (فارسی و عربی) کی سند حاصل کی اور بعد ازاں پٹنہ یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم اے کیا۔ یہ دوہری تعلیمی قابلیت (کلاسیکی مشرقی علوم اور عصری تعلیم) ان کی شاعری میں ایک خاص قسم کی متانت، وسعتِ نظر اور تاریخی شعور پیدا کرتی ہے۔ احسن چمپارنی کی شاعری میں عربی، فارسی اور اردو کے مطالعے کی جھلک نمایاں ہے۔ تاریخ سے ان کی دلچسپی نے بھی ان کے فکری افق کو وسعت بخشی ہے۔ ان کے فکری رجحانات میں سب سے نمایاں پہلو شریعت کی پاسداری ہے؛ وہ عشق کے جذبے میں بہہ کر غلو کا شکار نہیں ہوتے بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں مدحتِ رسول ﷺ کرتے ہیں۔
''کشتِ اخلاص'' کا عمیق مطالعہ بتاتا ہے کہ احسن چمپارنی کا اسلوبِ اظہار سادگی، سلاست، روانی اور برجستگی کا حسین مرقع ہے۔ وہ دقیق اور ثقیل الفاظ کے انبار لگانے کے بجائے عام فہم مگر شائستہ اور پروقار زبان استعمال کرتے ہیں۔ ڈاکٹر منصور فریدی کے بقول، احسن کی شاعری کی زبان میں ایسا سحر ہے کہ وہ عام بول چال کی زبان میں مشکل ترین افکار کو ڈھالنے کا ہنر جانتے ہیں۔ دیوان کا آغاز روایت کے مطابق حمدِ باری تعالیٰ سے ہوتا ہے، جس میں کائنات کی تخلیق اور ربوبیت کا بیان بڑی سادگی سے کیا گیا ہے:
ساری زمیں بنائی سب آسماں بنایا
قدرت سے اپنی رب نے سارا جہاں بنایا
اس کے بعد مناجات کے اشعار میں بندے کی بے بسی اور رب کی رحمت کا اقرار ملتا ہے:
ہر مصیبت میں تجھے ہم نے پکارا مولا
بن ترے کون بھلا ہوگا ہمارا مولا
نعتوں کے حصے میں قدم رکھتے ہی ان کا تخیل مدینے کی گلیوں کا طواف کرنے لگتا ہے۔ شعری محاسن کے اعتبار سے ان کے ہاں پیکر تراشی اور جذبات نگاری عروج پر ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں جن میں وارداتِ قلبی کو انتہائی خوبصورتی سے پرویا گیا ہے:
تاریکئیِ شب، شامِ غریباں سے نکالا
آقا نے ہمیں بھی غمِ دوراں سے نکالا
یہ شعر ذاتی عقیدت تک محدود نہیں بلکہ امتِ مسلمہ اور انسانیت پر رسولِ اکرم ﷺ کے احسانات کا تاریخی اور آفاقی بیان ہے۔
اسی طرح ان کی شاعری میں تلمیحات اور قرآنی حوالوں کا برمحل استعمال ان کے کلام کو مزید وقیع بناتا ہے۔ وہ مدحتِ رسول ﷺ کو ربِ کائنات کی سنت قرار دیتے ہیں:
خدا پڑھ رہا ہے قصیدہ تمھارا
کہاں پا سکا کوئی رتبہ تمھارا
وہ بھی نور والا، یہ بھی نور والا
خدا کا ہے مکہ، مدینہ تمھارا
احسن چمپارنی کے ہاں روایتی نعتیہ تراکیب (جیسے گنبدِ خضریٰ، آبِ زم زم، کوثر، طیبہ کی گلیاں) کثرت سے ملتی ہیں، جو قاری کو ایک مانوس اور روحانی فضا میں لے جاتی ہیں۔
دیوان کی فنی ساخت پر غور کیا جائے تو احسن چمپارنی نے اردو کی مروجہ اور مترنم بحور کا انتخاب کیا ہے، جو ترنم سے پڑھے جانے کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔ انہوں نے چھوٹی، درمیانی اور طویل، ہر نوع کی بحر میں طبع آزمائی کی ہے۔ ان کے ہاں اوزان کی پابندی اور قوافی کا دروبست اساتذہ کے کلام کی یاد دلاتا ہے۔ ایک مکمل دیوان مرتب کرنا، جس میں ردیف کی پابندی کے ساتھ ہر حرف پر نعت کہی گئی ہو، ان کی مسلسل شعری ریاضت اور فن پر سنجیدہ توجہ کا مظہر ہے۔ ہر ادبی کاوش کی طرح 'کشتِ اخلاص' میں بھی ایسے پہلو موجود ہیں جن پر گفتگو کی جا سکتی ہے۔
ردیف وار دیوان مرتب کرنے کی شعوری کوشش اپنی جگہ قابلِ توجہ ہے، تاہم بعض مقامات پر یہی التزام خیال کی فطری روانی پر اثر انداز ہوتا دکھائی دیتا ہے، جس کی وجہ سے بعض اشعار بیانیہ سطح پر رہ گئے ہیں اور ان میں وہ شعری ایمائیت اور فنی تہہ داری پوری طرح نمایاں نہیں ہو سکی جو اعلیٰ نعتیہ شاعری کا وصف سمجھی جاتی ہے۔ مزید برآں، کتاب میں استعمال ہونے والی تشبیہات اور استعارات زیادہ تر روایتی اور کلاسیکی ہیں۔ گو کہ نعت کے تقدس کا تقاضا ہے کہ زبان محتاط ہو، لیکن جدید نعتیہ ادب میں استعاراتی نظام میں جو وسعت اور نیاپن آیا ہے، اس کا فقدان یہاں کسی حد تک محسوس ہوتا ہے۔ مصنف نے روایتی مضامین کو ہی ایک نئی اور سادہ زبان میں پیش کرنے پر اکتفا کیا ہے۔
ان چند فنی حدود کے باوجود، جن کا سامنا دیوان مکمل کرنے والے تقریباً ہر شاعر کو کرنا پڑتا ہے، ''کشتِ اخلاص'' اردو نعتیہ ادب کے ذخیرے میں ایک گراں قدر اور قابلِ فخر اضافہ ہے۔ احسن چمپارنی کی یہ کاوش اس بات کی دلیل ہے کہ آج کے مادیت پرست دور میں بھی ایسے مخلص قلم کار موجود ہیں جن کا سینہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے منور ہے اور جو اپنے فن کو دنیاوی شہرت کے لیے نہیں بلکہ آخرت کے توشے اور قلبی تسکین کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اردو ادب کے محققین، نعتیہ ادب کے شائقین اور ثنا خوانِ مصطفیٰ ﷺ کے لیے یہ کتاب یکساں مفید ہے۔ اس دیوان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ یہ قاری کے دل میں عشقِ رسول ﷺ کی شمع روشن کرتا ہے اور اسے شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے مدحت کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ احسن چمپارنی کی یہ کاوش ان کے اخلاصِ عقیدت اور شعری وابستگی کی آئینہ دار ہے۔ انہوں نے قرآنی آیات، احادیثِ نبوی اور سیرتِ طیبہ کے مضامین کو اپنی شاعری میں عقیدت اور فنی شعور کے ساتھ سمویا ہے۔ یہی وصف اس دیوان کو معاصر نعتیہ ادب میں ایک قابلِ توجہ اضافہ بناتا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ 'کشتِ اخلاص' نعتیہ ادب کے قارئین میں اپنی جگہ بنائے گی اور اہلِ ذوق کی توجہ حاصل کرے گی۔
------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻 👇🏻 👇🏻 👇🏻 👇🏻 👇🏻 👇🏻

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں